اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سروے کے نتائج کے مطابق گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم نئی جماعت "یشر" کو 24 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 23 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ گئی ہے۔
سروے کے مطابق نفتالی بینیٹ کی جماعت "بیحد" ایک نشست کھو کر 15 نشستوں تک محدود ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایتمار بن گویر کی جماعت "عوتسما یہودیت" اور "الجبہہ۔العربیہ" اتحاد بھی ایک، ایک نشست سے محروم ہو گئے ہیں اور بالترتیب 8 اور 5 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اس کے برعکس "متحدہ عرب فہرست" اور "اسرائیل بیتنا" کو ایک، ایک اضافی نشست ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے حامی اتحاد کی مجموعی نشستیں کم ہو کر 52 رہ گئی ہیں، جبکہ ان کے مخالف سیاسی جماعتوں کی مجموعی تعداد 68 نشستوں تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم بعض جماعتوں کی عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون سے ہچکچاہٹ کے باعث اس اتحاد کی عملی قوت 58 نشستوں تک محدود رہتی ہے۔
سروے میں ایک اور ممکنہ منظرنامہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق اگر گلعاد اردان، آیلت شاکید اور یولی ایڈلشٹین کی قیادت میں نئی جماعت قائم ہوتی ہے تو نیتن یاہو مخالف اتحاد عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر بھی 61 نشستیں حاصل کر سکتا ہے۔
وزیراعظم کے عہدے کے لیے موزونیت کے حوالے سے بھی گادی آئزنکوٹ پہلی مرتبہ 41 فیصد حمایت کے ساتھ بنیامین نیتن یاہو سے آگے نکل گئے ہیں، جنہیں 37 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔
سروے میں شریک افراد کے مطابق آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے والے اہم ترین عوامل میں سرفہرست سلامتی کی صورتحال، 7 اکتوبر کے واقعات کے نتائج، معاشی حالات اور عدالتی اصلاحات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 59 فیصد شرکاء نے ایتمار بن گویر کی کارکردگی کو منفی قرار دیا، جبکہ 56 فیصد نے ہفتہ کے روز تجارتی مراکز کھلے رکھنے کی حمایت کی۔
آپ کا تبصرہ